کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھے
کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھے
کاش کوئی مری تقدیر کے آنسو پونچھے
وہ کچھ ایسے کسی تمہید سے باہر نکلا
اور اُس نے مری تحریر کے آنسو پونچھے
کون اس آبلہ پائی پہ لگائے مرہم
کون پیروںپڑی زنجیر کے آنسو پونچھے
نیند کے درد سبھی بانٹنے والاآخر
کس طرح خواب کی تعبیر کے آنسو پونچھے
ایک مدت سے سزا کاٹ رہا ہوں ،اب تو
کوئی آ کر مِری تقصیر کے آنسو پونچھے
سب فسوں ٹوٹ گئے زین زباں کےآخر
اب کوئی لہجہء تسخیر کے آنسو پونچھے
زین شکیل