افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا

لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا
گریہ زندگی سے عاری ہے
پھر بھی یہ نا مراد جذبہ دل
عقل کے فلسفوں پہ بھاری ہے
آپ کو اپنی بات کیا سمجھاوں
روز تجھے ہیں حوصلوں کے کنول
روز کی الجھنوں سے ٹکرا کر!
ٹوٹ جاتے ہیں دل کے شیش محل
لیکن آپس کی تیز باتوں پر
سوچتے ہیں خفا نہیں ہوتے
آپ کی صنف میں بھی ہے یہ بات
مرد ہی بے وفا نہیں ہوتے

مصطفی زیدی