افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
تیرا وعدہ تو نہیں ہوں کہ بدل جاؤں گا
رحم آیا نہ اگر تجھ کو تو اک دن میں بھی
سر کو رکھ کر ترے قدموں پہ مچل جاؤں گا
درد گھبرا کے یہ کہتا ہے شب فرقت میں
آہ بن کر ترے پہلو سے نکل جاؤں گا
سوز بھر دو مرے سینے میں غم الفت کا
میں کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا
مجھ کو سمجھاؤ نہ ساحرؔ کہ میں اک دن خود ہی
ٹھوکریں کھا کے محبت میں سنبھل جاؤں گا

ساحر بھوپالی