search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
افتخار احمد
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
درد اپناتا ہے پرائے کون
(13 فروری 2026)
دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھول
(13 فروری 2026)
دل کا ہر درد کھو گیا جیسے
(13 فروری 2026)
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
(13 فروری 2026)
وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے
(11 فروری 2026)
کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے
(11 فروری 2026)
ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
(11 فروری 2026)
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
(11 فروری 2026)
مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا
(10 فروری 2026)
کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا
(10 فروری 2026)
کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے
(10 فروری 2026)
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے
(10 فروری 2026)
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے
(10 فروری 2026)
میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتا
(10 فروری 2026)
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے
(08 فروری 2026)
یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے
(08 فروری 2026)
عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے
(08 فروری 2026)
اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو
(08 فروری 2026)
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
(05 فروری 2026)
تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی
(05 فروری 2026)
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
(05 فروری 2026)
دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں
(04 فروری 2026)
سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا
(04 فروری 2026)
کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں
(04 فروری 2026)
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
(02 فروری 2026)
کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے
(02 فروری 2026)
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
(02 فروری 2026)
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
(02 فروری 2026)
کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،
(01 فروری 2026)
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
(01 فروری 2026)
دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
(01 فروری 2026)
جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا
(01 فروری 2026)
ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا
(01 فروری 2026)
کچھ لوگ
(01 فروری 2026)
اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا
(31 جنوری 2026)
ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
(31 جنوری 2026)
آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھا
(31 جنوری 2026)
مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہو
(31 جنوری 2026)
شام کو راستے پر
(29 جنوری 2026)
شراب
(29 جنوری 2026)
دیدۂ اشک بار ہے اپنا
(29 جنوری 2026)
سرسراہٹ
(29 جنوری 2026)
دل محو جمال ہو گیا ہے
(29 جنوری 2026)
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
(28 جنوری 2026)
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
(28 جنوری 2026)
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
(28 جنوری 2026)
آمادگی
(27 جنوری 2026)
عہد وفا
(27 جنوری 2026)
آگہی
(27 جنوری 2026)
بے تعلقی
(27 جنوری 2026)
رنگ باد صبا میں بھرتا ہے
(27 جنوری 2026)
رشک مست شباب ہو تم تو
(26 جنوری 2026)
مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا
(26 جنوری 2026)
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
(25 جنوری 2026)
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
(25 جنوری 2026)
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
(25 جنوری 2026)
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
(25 جنوری 2026)
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
(25 جنوری 2026)
یہ وفا تو ان دنوں کی بات ہے فراز
(25 جنوری 2026)
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
(25 جنوری 2026)
اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
(25 جنوری 2026)
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
(25 جنوری 2026)
اظہار
(25 جنوری 2026)
میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
(25 جنوری 2026)
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
(24 جنوری 2026)
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں
(24 جنوری 2026)
چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا
(24 جنوری 2026)
قریب دل خروش صد جہاں ہم
(24 جنوری 2026)
دیر تک روشنی رہی کل رات
(23 جنوری 2026)
جنون اولیں شائستگی تھی
(23 جنوری 2026)
حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی
(23 جنوری 2026)
رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا
(23 جنوری 2026)
تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
(23 جنوری 2026)
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
(23 جنوری 2026)
عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے
(22 جنوری 2026)
حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
(22 جنوری 2026)
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
(22 جنوری 2026)
زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے
(21 جنوری 2026)
بقدر شوق اقرار وفا کیا
(19 جنوری 2026)
عشق خود مائل حجاب ہے آج
(19 جنوری 2026)
جگنو اور بچہ
(19 جنوری 2026)
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
(19 جنوری 2026)
ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
(19 جنوری 2026)
پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھے
(18 جنوری 2026)
کون اس تیغ ستم گر سے بچا
(18 جنوری 2026)
یوں سمجھ لو کہ بجز نام خدا کچھ نہ رہا
(18 جنوری 2026)
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
(18 جنوری 2026)
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
(18 جنوری 2026)
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
(18 جنوری 2026)
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں
(17 جنوری 2026)
شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ
(17 جنوری 2026)
کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے
(17 جنوری 2026)
خوب روکا شکایتوں سے مجھے
(15 جنوری 2026)
تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
(15 جنوری 2026)
ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
(15 جنوری 2026)
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
(14 جنوری 2026)
پشیمانی
(14 جنوری 2026)
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
(14 جنوری 2026)
حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش
(14 جنوری 2026)
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
(14 جنوری 2026)
کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
(13 جنوری 2026)
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے
(13 جنوری 2026)
سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
(12 جنوری 2026)
شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو
(11 جنوری 2026)
باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
(11 جنوری 2026)
ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں
(11 جنوری 2026)
المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے
(09 جنوری 2026)
بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا
(09 جنوری 2026)
ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
(09 جنوری 2026)
میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں
(09 جنوری 2026)
دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
(08 جنوری 2026)
عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھے
(08 جنوری 2026)
خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں
(08 جنوری 2026)
کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے
(08 جنوری 2026)
یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے
(08 جنوری 2026)
بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے
(07 جنوری 2026)
خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ
(07 جنوری 2026)
سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں
(07 جنوری 2026)
کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا
(06 جنوری 2026)
گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو
(05 جنوری 2026)
درد پا ہوگا شکست کاسۂ سر کا جواب
(05 جنوری 2026)
رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہے
(05 جنوری 2026)
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
(05 جنوری 2026)
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
(29 دسمبر 2025)
کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
(29 دسمبر 2025)
ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
(29 دسمبر 2025)
بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے
(29 دسمبر 2025)
چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
(29 دسمبر 2025)
دشمنی جس کی دوستی جیسی
(29 دسمبر 2025)
وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے
(28 دسمبر 2025)
آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کو
(28 دسمبر 2025)
رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں
(28 دسمبر 2025)
کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے
(28 دسمبر 2025)
کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں
(28 دسمبر 2025)
یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو
(28 دسمبر 2025)
بعد مدت اسے دیکھا لوگو۔۔
(28 دسمبر 2025)
پاٹا گلما سِین نئیں آیا
(27 دسمبر 2025)
پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو
(26 دسمبر 2025)
اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا
(26 دسمبر 2025)
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی
(26 دسمبر 2025)
کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں
(26 دسمبر 2025)
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
(26 دسمبر 2025)
واہمہ
(26 دسمبر 2025)
ہمیں خبر ہے ہَوا کا مزاج رکھتے ہو
(26 دسمبر 2025)
بس اتنا یاد ہے
(26 دسمبر 2025)
کتھا رس
(26 دسمبر 2025)
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
(26 دسمبر 2025)
اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
(26 دسمبر 2025)
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
(26 دسمبر 2025)
اپنے آپ نال گلاں
(26 دسمبر 2025)
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
(26 دسمبر 2025)
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
(26 دسمبر 2025)
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
(25 دسمبر 2025)
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے
(25 دسمبر 2025)
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
(25 دسمبر 2025)
یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا
(25 دسمبر 2025)
اعتراف
(25 دسمبر 2025)
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
(25 دسمبر 2025)
مجھ کو رسوا سر محفل تو نہ کروایا کرے
(25 دسمبر 2025)
دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
(25 دسمبر 2025)
یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
(18 دسمبر 2025)
میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی
(18 دسمبر 2025)
جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو
(17 دسمبر 2025)
حوصلہ شرط وفا کیا کرنا
(17 دسمبر 2025)
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
(15 دسمبر 2025)
لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا
(15 دسمبر 2025)
گھر کے قصے بیان ہوتے رہے
(15 دسمبر 2025)
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
(15 دسمبر 2025)
جذبوں کو زبان دے رہا ہوں
(15 دسمبر 2025)
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
(14 دسمبر 2025)
کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں
(14 دسمبر 2025)
تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
(14 دسمبر 2025)
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
(14 دسمبر 2025)
خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی
(14 دسمبر 2025)
ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا
(14 دسمبر 2025)
اجنبی!
(14 دسمبر 2025)
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
(14 دسمبر 2025)
خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا
(14 دسمبر 2025)
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
(12 دسمبر 2025)
خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
(12 دسمبر 2025)
احوال ایک سفر کا
(12 دسمبر 2025)
توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے
(12 دسمبر 2025)
کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
(12 دسمبر 2025)
ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے
(12 دسمبر 2025)
ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی
(12 دسمبر 2025)
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے
(11 دسمبر 2025)
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
(11 دسمبر 2025)
یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے
(11 دسمبر 2025)
یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں
(11 دسمبر 2025)
یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا
(11 دسمبر 2025)
ہر اک نے کہا کیُوں تجھے آرام نہ آیا
(10 دسمبر 2025)
تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں
(10 دسمبر 2025)
کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
(10 دسمبر 2025)
ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
(10 دسمبر 2025)
لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا
(10 دسمبر 2025)
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
(10 دسمبر 2025)
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
(10 دسمبر 2025)
ماہیت
(10 دسمبر 2025)
یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
(10 دسمبر 2025)
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
(09 دسمبر 2025)
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
(09 دسمبر 2025)
بھول کر ذات تم کو یاد کیا
(09 دسمبر 2025)
جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
(08 دسمبر 2025)
تکمیل شباب چاہتا ہوں
(08 دسمبر 2025)
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
(08 دسمبر 2025)
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
(08 دسمبر 2025)
شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا
(08 دسمبر 2025)
درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
(07 دسمبر 2025)
خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
(07 دسمبر 2025)
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
(07 دسمبر 2025)
مری تھم تھم جاوے سانس پیا
(06 دسمبر 2025)
درد کی ہی اساس ہوں میں تو
(06 دسمبر 2025)
جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے
(06 دسمبر 2025)
کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھے
(06 دسمبر 2025)
وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے
(06 دسمبر 2025)
حیا والی وہ با کردار آنکھیں
(06 دسمبر 2025)
دل نے رنج و ملال اپنائے
(06 دسمبر 2025)
جیسے تیسے رہ جاتا ہے
(05 دسمبر 2025)
ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
(05 دسمبر 2025)
کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا
(05 دسمبر 2025)
یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود
(05 دسمبر 2025)
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا
(05 دسمبر 2025)
وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھا
(05 دسمبر 2025)
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
(04 دسمبر 2025)
صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
(04 دسمبر 2025)
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
(04 دسمبر 2025)
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
(04 دسمبر 2025)
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
(04 دسمبر 2025)
گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن
(04 دسمبر 2025)
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
(03 دسمبر 2025)
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
(03 دسمبر 2025)
وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
(03 دسمبر 2025)
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
(02 دسمبر 2025)
وہ بک چکے تھے جب ہم خریدنے کے قابل ہوئے
(02 دسمبر 2025)
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
(02 دسمبر 2025)
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
(02 دسمبر 2025)
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
(02 دسمبر 2025)
میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا
(02 دسمبر 2025)
اس لہو کا لہجہ ہوں
(01 دسمبر 2025)
مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے
(01 دسمبر 2025)
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں
(30 نومبر 2025)
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
(30 نومبر 2025)
خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
(30 نومبر 2025)
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
(30 نومبر 2025)
جدوں چس آئ عمر گزارن دی جند جان جواب چا دیتا
(29 نومبر 2025)
اک مشکل اے حل نہیں ہوندی
(29 نومبر 2025)
رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں
(28 نومبر 2025)
دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملے
(28 نومبر 2025)
اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے
(28 نومبر 2025)
اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
(28 نومبر 2025)
یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے
(28 نومبر 2025)
جان سے مار دے مجھے لیکن
(27 نومبر 2025)
مگر یہ طے ہے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوں
(27 نومبر 2025)
کبھی یوں بھی تو ہو
(27 نومبر 2025)
گر پیادہ بھی کوئی جیت کے نکلا تو تِرا
(27 نومبر 2025)
یہ بھی ممکن ہے کسی روز نہ پہچانوں اُسے
(27 نومبر 2025)
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
(26 نومبر 2025)
اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں
(26 نومبر 2025)
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
(26 نومبر 2025)
ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم
(26 نومبر 2025)
مولانا
(26 نومبر 2025)
زنداناں دے در نہیں کُھلدے ہنجُواں ہاواں نال
(26 نومبر 2025)
تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
(25 نومبر 2025)
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
(25 نومبر 2025)
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
(25 نومبر 2025)
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
(25 نومبر 2025)
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
(24 نومبر 2025)
تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں
(24 نومبر 2025)
تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کو
(24 نومبر 2025)
کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ
(24 نومبر 2025)
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ
(24 نومبر 2025)
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
(23 نومبر 2025)
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی
(23 نومبر 2025)
مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے
(23 نومبر 2025)
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
(21 نومبر 2025)
میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے
(21 نومبر 2025)