افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی

تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی
سو تیشہء نگاہ سے اِک مُورتی گھڑی
کَب سے مُصِر تھا کھیلتے رَہنے پہ کوئی پَل
مَیں نے بھی کھیل کھیل ہی میں توڑ دی گھڑی
پکڑا ہُوا ہے مُجھ کو گریباں سے، وَقت نے
اِک ہَتھکڑی سے کَم تو نہیں ہے مِری گھڑی!
کَیسا اَلارم ہے مِرے دل میں لَگا ہُوا!
تیرا خیال آتے ہی بَجنے لَگی گھڑی
رہتا ہوں مَیں گُزشتہ زمانے میں آج تک
پَہنی ہُوئی ہے گَرچہ نئے دور کی گھڑی
ہَر بار پانچ بجتے ہی رُکتی ہیں سوئیاں
کِتنی دَفعہ خَرید چُکا ہوں نئی گھڑی!
ناوقت سے ہے ربط مِرا، وقت سے نہیں!
کیسا مکان! کیسا زماں! کون سی گھڑی!

سعید شارق