افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں

تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں​
کس کا غم، کہاں کا غم، سب فضول باتیں ہیں​
​اے خلوص میں تجھ کو کس طرح بچاؤں گا​
دشمنوں کی چالیں ہیں، ساتھیوں کی گھاتیں ہیں​
​تم پہ ہی نہیں موقوف، آج کل تو دنیا میں​
زیست کے بھی مذہب ہیں، موت کی بھی ذاتیں ہیں​

مصطفی زیدی