افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا

ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا
خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا
نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ ٖغربت میں
زیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا
مجھے مت دیر سے تکلیف کر کعبے کے اے زاہد
جو میرا کفر ایسا ہے تو پھر اسلام کیا ہوگا
مگر لائق نہیں اس دور میں ہم بادہ خواری کے
جو دیوے گا تو اے ساقی، ہمیں بھی جام کیا ہو گا
کسی دیں دار و کافر کو خیال اتنا نہیں آتا
سحر کیا ہو چکی سودا کے دل پر شام کیا ہو گا

محمد رفیع سودا