یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے
یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے
یا پھر چاند ستاروں کو نابینا کر دے
ختم ھوُا جاتا ھے سارا حُسن غزل کا
آنکھوں کو ساغر جسموں کو مِینا کر دے
جس پیشانی پر سوُرج نے دیا ھے بوسہ
اُس پیشانی کا گُل رنگ پسینہ کر دے
ھِجر کا غم وہ جادوُگر ھے پریِت نگر کا
جو دن کو پھیلائے اور مہینہ کر دے
برسیں پھوُل تو دُنیا حق جتلائے اپنا
تِیر چلیں تو آگے میرا سینہ کر دے
باتیں بہت قتیل مگر اِس ڈر سے چُپ ھوُں
یہ واعظ دُشوار نہ میرا جینا کر دے
قتیل شفائی