یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے
یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے
ہر بزمِ طرب، جوں مژہ، برہم زدنی ہے
دل ٹکڑے کیا ہے یہ مرا،کس کے لبوں نے
جو لخت ہے، سو رشکِ عقیقِ یمنی ہے
کیا کام مجھے خوف درجا سے، کہ میرے پاس
ہے جان، سو بے جان ہے، دل ہے سو غنی ہے
تن پروری خلق مبارک ہو انہیں، یہاں
جوں نقش قدم، اور ہی آسودہ تنی ہے
آجے جو بلا آئی تھی، سو دل پہ ٹلی تھی
اب کے تو مری جان ہی پر آن بنی ہے
اے درد! کہوں کس سے، بتا رازِ محبت
عالم میں، سخن چینی ہے یا طعنہ زنی ہے
خواجہ میر درد