یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو
یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو
پڑی ہے طاق پہ دنیا اٹھا کے چلتے بنو
جہاں فانی ہے مت سوچنا سکونت کا
بس اپنے نام کا سکہ بٹھا کے چلتے بنو
اب اسے کے بعد شکاری کمان کھینچے گا
تم اس سے پہلے ذرا پھڑ پھڑا کے چلتے بنو
ہے بھیڑساقی کوثر کو دیکھنے کے لیے
سب اپنی پیاس بجھاو بجھا کے چلتے بنو
نہیں ہے فائدہ اب کوئی سینہ کوبی کا
بہانے آئے تھے جو خوں بہا کے چلتے بنو
ہوا ہوں تلخ تو باعث بھی لازمی ہے کوئی
میں تم سے اس لیے روٹھا ہوں تاکہ چلتے بنو
سجی رہے گی یونہی بزم حشر تک آزر
تم اپنے شعر سناو سنا کے چلتے بنو
دلاور علی آزر