ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی
فلک سے ربط استوار تھا، گھر کی چھت نہیں تھی
میں کاروبارِجنوں کو اب ترک کر چکا ہوں
وہ کام اچھا تھا لیکن اُس میں بچت نہیں تھی
وہ شخص بھی شعر تھا کوئی سہلِ ممتنع میں
نہیں کھلا گر چہ اس کی کوئی پرت نہیں تھی
بہت سا غم اس لئے منافع گھٹا کے بیچا
کیا تھا جتنا برآمد، اتنی کھپت نہیں تھی
ہمارا چہرہ بہت سی آنکھوں کا پِیر ہے اب
وہ آنکھیں جن کو ملال کی معرفت نہیں تھی
اک اور عشق آ گیا تھا دورانِ ہجر، ٹالا
ممانعت تو نہیں تھی، مجھ میں سکت نہیں تھی
بھلا ہو نم کا کہ اک جگہ پر بٹھا دیا ہے
وگرنہ مجھ گرد کی زمیں سے جڑت نہیں تھی

عمیر نجمی