ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے
نہیں کام عشق سے کچھ تو پھر حیات کیا ہے
میری خبر کس طرح دے میرا ظاہری لبادہ
میری روح بتائے گی میری اصل ذات کیا ہے
کافی نہیں تھا کہنا کے میں بندہ خدا ہوں
کیوں پوچھتے ہو میرا مسلک فرقہ ذات کیا ہے
سب بات کررہے ہیں ہر بات پہ دلیلیں
اور یاد تک نہیں ہے کہ دل کی بات کیا ہے
تیرے عشق سے فروزاں میرے دل کے آبگینے
تو ساتھ ہے اگر تو یہ کائنات کیا ہے۔
محمد احمد بن راشد

نا معلوم