ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں

خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
وہ دانش‌‌ مند دھوکا کھا گئے ہیں
ابھی تو فصل گل کی ابتدا تھی
ابھی سے پھول کیوں مرجھا گئے ہیں
کچھ ایسے آپ نے پھیری ہیں آنکھیں
زمانے کے ستم شرما گئے ہیں
تری آنکھوں کی فرمائش پہ انساں
فریب زندگی بھی کھا گئے ہیں
عدمؔ سے زندگی روٹھی ہوئی تھی
خدا کا شکر ہے آپ آ گئے ہیں

عبدالحمیدعدم