محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
کہیں تو کسی کا خدا ہو نہ جائے
خلش غم کی دل سے جدا ہو نہ جائے
کہیں زندگی بے مزا ہو نہ جائے
محبت مری بے خدا ہو نہ جائے
کہیں پھر وہ ظالم خفا ہو نہ جائے
کرے بھی تو کیا آہ مجبور الفت
اگر راہ غم میں فنا ہو نہ جائے
خدا کے لئے التجا یوں نہ ٹھکرا
کہیں کوئی بے آسرا ہو نہ جائے
نہ اتنے بھی صدمے دو پامال غم کو
کہیں ساز دل بے صدا ہو نہ جائے
نہ کرنا کبھی عرض غم ان سے ساحرؔ
کہیں التجا بھی گلہ ہو نہ جائے
ساحر بھوپالی