ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے
یہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!!
وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھے
یہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!!
وہ جو تشنگی سر آب تھی ؛ مرا خواب تھی
یہ جو موج موج کا جام ھے ؛ ترے نام ھے..!!
وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا ؛ مرا داغ تھا
یہ جو نور ماہ تمام ھے ؛ ترے نام ھے
وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی مری بات تھی
یہ جو قہقہوں بھری شام ھے ؛ ترے نام ھے۔۔!!
وہ جو راستوں کا غبار تھا ؛ کسے بار تھا
یہ جو منزلوں کا مقام ھے ؛ ترے نام ھے

ساجد رحیم