ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے

وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے
پردے تعینات کے جو تھے اٹھا دیے
ہوں کشتہ تغافل ہستی بے ثبات
خاطر سے کون کون نہ اس نے بھلا دیے
روتی ہے چشم اب تئیں یہ تیری داد خواہ
کتنے ہی تیغ ابرو نے قصے چکا دئے
دونوں جہاں کی نہ رہی پھر خبر اسے
دو پیالے تیری آنکھوں نے جس کو پلا دیے
چاہو وفا کرو نہ کرو اختیار ہے
خطرے جو اپنے جی میں تھے وہ سب اٹھا دیے
سیلاب اشک گرم نے اعضا مرے تمام
اے دردؔ کچھ بہا دئے اور کچھ جلا دیے

خواجہ میر درد