پیش کردہ کلام
- 01 زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
- 02 مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے
- 03 بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا
- 04 در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر
- 05 تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش
- 06 جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا
- 07 مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے
- 08 ہر مصرعے نوں چِتھ کے گانا پیناں ایں
- 09 میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے
- 10 دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم
- 11 دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے
- 12 بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں
- 13 خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں
- 14 میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیں
- 15 اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا
- 16 خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے
- 17 نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے
- 18 منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے
- 19 بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے
- 20 منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- 21 وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
- 22 رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے
- 23 عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
- 24 کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض
- 25 جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے
- 26 دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے
- 27 دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
- 28 بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
- 29 ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا
- 30 وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے
- 31 ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
- 32 ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے
- 33 جِند تلی تے دھر کے ویکھ
- 34 یاد آتے گئے بھلانے سے
- 35 محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
- 36 بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے
- 37 گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں
- 38 شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا
- 39 محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی
- 40 جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
- 41 وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے
- 42 میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ
- 43 میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو
- 44 اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
- 45 خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
- 46 اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا
- 47 ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے
- 48 کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
- 49 لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں
- 50 تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
- 51 جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہے
- 52 خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
- 53 سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
- 54 ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو
- 55 اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے
- 56 بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
- 57 کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوں
- 58 ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
- 59 میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں
- 60 وہ سر بام کب نہیں آتا
- 61 وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا
- 62 یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
- 63 سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
- 64 اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
- 65 ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی
- 66 نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں
- 67 خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات
- 68 ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
- 69 موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا
- 70 کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب
- 71 کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ
- 72 یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا
- 73 شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے
- 74 جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
- 75 کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
- 76 رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا
- 77 محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
- 78 تمام دکھ ہے
- 79 کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں
- 80 رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
- 81 رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے
- 82 جدائی کا موڑ
- 83 غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
- 84 یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے
- 85 مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی
- 86 اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا
- 87 شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
- 88 کتے اور خرگوش
- 89 وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
- 90 مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا
- 91 برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
- 92 مزدوروں کا گیت
- 93 مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
- 94 یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو
- 95 شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
- 96 آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا
- 97 اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
- 98 وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے
- 99 کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
- 100 اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
- 101 دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
- 102 موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا
- 103 آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا
- 104 روح دا پھٹ اے کھول کے دسیا نہیں جانا
- 105 ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
- 106 روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
- 107 قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا
- 108 حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں
- 109 خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
- 110 نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں
- 111 دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں
- 112 بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں
- 113 باغی مرید
- 114 امامت
- 115 مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- 116 جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- 117 قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا
- 118 آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
- 119 ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے
- 120 شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
- 121 آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
- 122 فنون لطیفہ
- 123 تُوں جیون بھر من دی مرضی کیتی اے
- 124 پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
- 125 وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
- 126 ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
- 127 دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
- 128 اُچیاں کندھاں والا گھر سی رو لیندے ساں کُھل کے
- 129 جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے
- 130 بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
- 131 بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے
- 132 یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے
- 133 زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں
- 134 فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے
- 135 قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
- 136 مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں
- 137 جنوں بیمار ہے، آہستہ بولو
- 138 خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
- 139 نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں
- 140 نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
- 141 دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
- 142 اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
- 143 ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
- 144 وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
- 145 عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا