search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ملک
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے
(08 فروری 2026)
منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
(08 فروری 2026)
وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
(05 فروری 2026)
رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے
(05 فروری 2026)
عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
(04 فروری 2026)
کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض
(04 فروری 2026)
جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے
(04 فروری 2026)
دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے
(02 فروری 2026)
دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
(02 فروری 2026)
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
(01 فروری 2026)
ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا
(01 فروری 2026)
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے
(01 فروری 2026)
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
(31 جنوری 2026)
ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے
(31 جنوری 2026)
جِند تلی تے دھر کے ویکھ
(30 جنوری 2026)
یاد آتے گئے بھلانے سے
(26 جنوری 2026)
محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
(26 جنوری 2026)
بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے
(21 جنوری 2026)
گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں
(21 جنوری 2026)
شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا
(20 جنوری 2026)
محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی
(20 جنوری 2026)
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
(19 جنوری 2026)
وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے
(19 جنوری 2026)
میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ
(18 جنوری 2026)
میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو
(18 جنوری 2026)
اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
(17 جنوری 2026)
خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
(17 جنوری 2026)
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
(17 جنوری 2026)
اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا
(15 جنوری 2026)
ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے
(15 جنوری 2026)
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
(14 جنوری 2026)
لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں
(14 جنوری 2026)
تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
(13 جنوری 2026)
جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہے
(13 جنوری 2026)
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
(12 جنوری 2026)
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
(12 جنوری 2026)
ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو
(09 جنوری 2026)
اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے
(09 جنوری 2026)
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
(08 جنوری 2026)
کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوں
(08 جنوری 2026)
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
(07 جنوری 2026)
میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں
(07 جنوری 2026)
وہ سر بام کب نہیں آتا
(06 جنوری 2026)
وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا
(06 جنوری 2026)
یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
(05 جنوری 2026)
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
(05 جنوری 2026)
اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
(01 جنوری 2026)
ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی
(01 جنوری 2026)
نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں
(30 دسمبر 2025)
خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات
(30 دسمبر 2025)
ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
(30 دسمبر 2025)
موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا
(29 دسمبر 2025)
کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب
(29 دسمبر 2025)
کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ
(28 دسمبر 2025)
یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا
(28 دسمبر 2025)
شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے
(28 دسمبر 2025)
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
(26 دسمبر 2025)
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
(26 دسمبر 2025)
رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا
(26 دسمبر 2025)
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
(26 دسمبر 2025)
تمام دکھ ہے
(25 دسمبر 2025)
کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں
(25 دسمبر 2025)
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
(25 دسمبر 2025)
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی
(18 دسمبر 2025)
اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا
(18 دسمبر 2025)
شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
(17 دسمبر 2025)
کتے اور خرگوش
(17 دسمبر 2025)
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
(16 دسمبر 2025)
مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا
(16 دسمبر 2025)
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
(14 دسمبر 2025)
مزدوروں کا گیت
(14 دسمبر 2025)
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
(14 دسمبر 2025)
یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو
(13 دسمبر 2025)
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
(12 دسمبر 2025)
آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا
(12 دسمبر 2025)
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
(11 دسمبر 2025)
وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے
(11 دسمبر 2025)
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
(10 دسمبر 2025)
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
(09 دسمبر 2025)
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
(09 دسمبر 2025)
موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا
(08 دسمبر 2025)
آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا
(08 دسمبر 2025)
روح دا پھٹ اے کھول کے دسیا نہیں جانا
(08 دسمبر 2025)
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
(07 دسمبر 2025)
روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
(07 دسمبر 2025)
قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا
(06 دسمبر 2025)
حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں
(06 دسمبر 2025)
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
(05 دسمبر 2025)
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں
(05 دسمبر 2025)
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں
(04 دسمبر 2025)
بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں
(04 دسمبر 2025)
باغی مرید
(03 دسمبر 2025)
امامت
(03 دسمبر 2025)
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
(02 دسمبر 2025)
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
(02 دسمبر 2025)
قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا
(02 دسمبر 2025)
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
(01 دسمبر 2025)
ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے
(01 دسمبر 2025)
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
(30 نومبر 2025)
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
(30 نومبر 2025)
فنون لطیفہ
(30 نومبر 2025)
تُوں جیون بھر من دی مرضی کیتی اے
(29 نومبر 2025)
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
(28 نومبر 2025)
وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
(28 نومبر 2025)
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
(27 نومبر 2025)
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
(27 نومبر 2025)
اُچیاں کندھاں والا گھر سی رو لیندے ساں کُھل کے
(26 نومبر 2025)
جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے
(26 نومبر 2025)
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
(25 نومبر 2025)
بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے
(25 نومبر 2025)
یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے
(25 نومبر 2025)
زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں
(24 نومبر 2025)
فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے
(24 نومبر 2025)
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
(24 نومبر 2025)
مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں
(23 نومبر 2025)
جنوں بیمار ہے، آہستہ بولو
(23 نومبر 2025)
خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
(23 نومبر 2025)
نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں
(22 نومبر 2025)
نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
(22 نومبر 2025)
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
(21 نومبر 2025)
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
(21 نومبر 2025)
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
(21 نومبر 2025)
وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
(20 نومبر 2025)
عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا
(20 نومبر 2025)