ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
اے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی
تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میں
نا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی
جس سے منسوب ہوا میرے خیالوں کا سفر
ڈھونڈنے اس کو مرے ساتھ ہوا بھی آئی
مجھ میں موجود ہے وہ اور نہیں ہے ظاہر
اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی
زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سے
اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی
زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سے
دل بیاں کر نہ سکا ایسی تباہی آئی
پرسش حال کرے کون کسے ہے فرصت
کب مرے صحن میں نا دیدہ خدائی آئی

کشور ناہید