ملک

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے
شامؔ ہوتی ہے کہ سورجؔ کا نشہ ٹوٹتا ہے
اس لیے بند ہی رکھتا ہوں میں آنکھیں اپنی
دیکھتا ہوں تو مرا دیکھا ہوا ٹوٹتا ہے
کون جھانکے گا مری روح کی گہرائی میں
کون دیکھے گا مرے جسم میں کیا ٹوٹتا ہے
ایک ہوتا ہے یہاں آ کے لہو اور پانی
جس جگہ ملتا ہے ساحل اسی جا ٹوٹتا ہے
عکس جم جاتے ہیں جب برف کی صورت مجھ میں
آئنہ ہوتا ہوا نقش بجا ٹوٹتا ہے
سر بسر وقت کو تجسیم کیا ہے میں نے
ایک لمحہ سے فقط لمحہ نما ٹوٹتا ہے
آسماں ٹوٹ چکا اپنے سروں پر آزرؔ
اب تو آنکھوں پہ فقط سیل بلا ٹوٹتا ہے

دلاور علی آزر