یاد آتے گئے بھلانے سے
یاد آتے گئے بھلانے سے
درد بڑھتا گیا دبانے سے
راز افشا ہوا چھپانے سے
خامشی کم نہ تھی فسانے سے
میں نے منت بھی کی مگر تم تو
باز آئے نہ دل دکھانے سے
کچھ مقدر ہی نارسا پایا
مجھ کو شکوہ نہیں زمانے سے
میری قسمت میں جو ہو صاف کہو
کام چلتا نہیں بہانے سے
کوئی درد آشنا نہیں ملتا
کیا وفا اٹھ گئی زمانے سے
ان کو پا کر بھی کچھ نہیں پایا
باز آئے ہم ایسے پانے سے
ہم کو مٹنا تھا ان پہ اے ساحرؔ
مٹ گئے ہم کسی بہانے سے
ساحر بھوپالی