یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے
یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے
یہ اہلِ تخت رعونت میں مار دیں گے تجھے
سوال جب بھی اٹھانے لگے گا غیرت کا
یہ بے ضمیر ہیں،غیرت میں مار دیں گے تجھے
یہاں پہ اہل ِ کرم سے بھی فاصلے رکھنا
گلے ملیں گے۔۔۔محبت میں مار دیں گے تجھے
اگر ہوں حق میں شواہد بھی تو خیال رہے
وڈیرے آکے۔۔عدالت میں مار دیں گے تجھے
فقیہہِ شہر کی تقلید کر۔۔وگرنہ یہاں
مرید۔۔اندھی عقیدت میں مار دیں گے تجھے
ابھی شعور نہیں ہے انہیں قیادت کا
مشیر تیرے،حماقت میں مار دیں گے تجھے
نئ نقب زنی پکڑی اگر لٹیروں کی
پرانے چور حمایت میں مار دیں گے تجھے
یہ کامیابیاں کھٹکیں گی جب نگاہوں میں
ترے رفیق،رقابت میں مار دیں گے تجھے
اگر رکھا گیا انعام تیرے سر پہ کبھی
یہ اپنے! اپنی حفاظت میں مار دیں گے تجھے
اگر ہے سوچ حسینی(رض)تو یہ بھی ثابت ہے
کہ اہل ِ علم جہالت میں مار دیں گے تجھے
تجھے بھی صائمہ سودا ہے حق نوائی کا
ترے اصول۔۔۔ بغاوت میں مار دیں گے تجھے
صائمہ کامران