ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے
ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے
کر دیا ضعف سے جوں سایہ زمیں گیر مجھے
تیری تدبیر سے میں کیونکہ مروں گا اے مرگ
کی نہ ہو ہجر کے جب زہر نے تاثیر مجھے
جس کو منظور ہے مرنا اسے جینا ہے وبال
ہے دم پاک مسیحا دم شمشیر مجھے
مجھ کو پیری میں کیا تازہ جوانوں کا مرید
خوار کرتا ہے یہ نظارۂ بے پیر مجھے
کم نہیں جوہر فولاد جواہر سے یقیںؔ
ہے بہ از سلک گوہر عشق میں زنجیر مجھے
انعام اللہ خاں یقین