ایم سعید

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے
ڈھونڈ لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے
درد بن کے جو میرے دل میں رہا ، ڈھل نہ سکا
جادو بن کے تیری آنکھوں میں رکا ، چل نہ سکا
آج لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے
دل میں رکھ لینا اسے ہاتھوں سے یہ چھوٹے نہ کہیں
گیت نازک ہے میرا شیشے سے بھی ٹوٹے نہ کہیں
گنگناؤں گا یہی گیت میں تیرے لئے
جب تلک نہ یہ تیرے رس کے بھرے ہونٹوں سے ملے
یونہی آوارہ پھرے گا یہ تیری زلفوں کے تلے
گائے جاؤںگا یہی گیت میں تیرے لئے
جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

مجروح سلطانپوری