وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا
وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا
میں جسے دوست سمجھتا تھا وہ سایہ نکلا
اچھے وقتوں میں پرائے بھی تھے اپنے لیکن
وقت پڑنے پہ جو اپنا تھا پرایا نکلا
بے خیالی میں لکیریں جو بنائیں میں نے
غور سے دیکھا تو وہ تیرا سراپا نکلا
میں سمجھتا تھا جسے اپنے طرف داروں میں
آزمایا ت وہ کمزور سہارا نکلا
اس کو جس بزم میں اعزاز ملا تھا محسن
آخر شب وہ اسی بزم سے تنہا نکلا
محسن بھوپالی