شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
یہی ہمارا نہ ہونا ہزار ہونا ہے
ابھی نہیں تجھے کر سکتے یاد چل پھر کر
پڑے پڑے ہی تیرا انتظار ہونا ہے
رکیں گے کیا ترے دریا کے درمیان میں اب
کہ آر ہونا ہے یا ہم نے پار ہونا ہے
ابھی تو ہم نے اٹھانا ہے اور بھی نقصان
ابھی تو اور بہت کاروبار ہونا ہے
ہمارے خواب نے چلنا ہے کارواں بن کر
ہماری خاک نے آخر غبار ہونا ہے
کبھی تو کرنا پڑے گا ہمارے ساتھ انصاف
کبھی تو آپ نے ایماندار ہونا ہے
ہماری پہلے ہی صحت خراب ہے اتنی
ابھی تمہارے مرض کا شکار ہونا ہے
کبھی تو آئے گی باری ہماری آخر کار
تری دکان کے باہر قطار ہونا ہے
ظفر کے ہاتھ بھی خالی ہیں اور دل بھی مگر
اسی نے آپ کا امیدوار ہوتا ہے
ظفراقبال