ایم سعید

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
میں مسکراتا ہوا آئنے میں ابھروں گا
وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے
وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں ہیں
میں ان میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے
بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے

وصی شاہ