جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا
جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا
جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا تو کہاں تھا
اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم مرے ہمدم
جب تیرے لیے میرا ہر احساس جواں تھا تو کہاں تھا
اب صرف خموشی ہے مقدرکا ستارہ، مرے یارا
جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا تو کہاں تھا
اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیاساون، مرے ساجن
جب چار سو مرے لیے خوشیوں کا سماں تھا تو کہاں تھا
وصی شاہ