راجا اکرام قمر

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے
زندگی درد کی سہیلی ہے
اُٹھنے جوگا نہیں ہے تیرے بعد
دل نے تکلیف ایسی جھیلی ہے
شام سے اس لیے محبت ہے
تیری یادوں کے ساتھ کھیلی ہے
مُضطرب کیوں نہ ہو شبِ ہجراں
درد کی گود میں اکیلی ہے
کوئی بتلائے خواب کا مفہوم
رات ہے، سانپ ہے، چنبیلی ہے
ان لکیروں میں تُو نہیں تو وصی
کتنی ویران یہ ہتھیلی ہے

وصی شاہ