راجا اکرام قمر

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

چاند کو اور بھی نکھار ملے

چاند کو اور بھی نکھار ملے
وہ اگر تجھ سے ایک بار ملے
آج کا دن عذاب تھا سچ میں
آج تو تم بھی بے قرار ملے
شہر میں بھی عجب اداسی تھی
سارے چہرے ہی اشکبار ملے
کون حیرت سجائے آنکھوں میں
کون اب تجھ سے بار بار ملے
میں جو اپنے وجود سے گزروں
تو مجھے میرے آر پار ملے
میری حسرت ہے جب ملوں تجھ سے
تو مجھے محوِ انتظار ملے
کاش دریا مجھے عبور کرے
اور تُو مجھ کو میرے پار ملے
سبز جھولے کی لاج رکھ سائیاں
مجھ کو کاسے میں تیرا پیار ملے

زین شکیل