راجا اکرام قمر

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
پیمانہ اپنے منہ سے خود بول اٹھا کہ بس
ذکر شب الم پہ کلیجہ پکڑ لیا
کچھ اور بھی سنوگے مرا ماجرا کہ بس
اللہ جانے غیر سے کیا گفتگو ہوئی
اتنا تو بھی آیا تھا سنتا ہوا کہ بس
اور سنگ دل تھے وہ مگر آنسو نکل پڑے
اس بے کسی سے میرا جنازہ اٹھا کہ بس
اچھا تری گلی سے میں جاتا ہوں باغباں
کچھ اور کہنے سننے کو باقی ہے یا کہ بس
شب بھر ترے مریض کا عالم یہی رہا
نبضوں پہ جس نے ہاتھ رکھا کہہ دیا کہ بس
دن ہو کہ رات رونے سے مطلب ہمیں قمرؔ
دل دے کے ان کو ایسا نتیجہ ملا کہ بس

قمرجلالوی