پیش کردہ کلام
- 01 شہر کے دوسرے کنارے سے
- 02 سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا
- 03 اک بار ہو تو جائے محبت کسی کے ساتھ
- 04 ہمارے بعد
- 05 راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی
- 06 تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
- 07 یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں
- 08 درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے
- 09 نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے
- 10 کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
- 11 ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
- 12 عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے
- 13 بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئے
- 14 نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا
- 15 کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
- 16 جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
- 17 غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
- 18 گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے
- 19 عشق تیرے وچ رنگ کے میں بن جاواں ستے رنگ
- 20 نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
- 21 کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لال
- 22 بے چارگی
- 23 کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار
- 24 خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے
- 25 زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
- 26 رنگ دل رنگ نظر یاد آیا
- 27 نگاہ باز گشت
- 28 جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
- 29 گل چاندنی
- 30 کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی
- 31 میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
- 32 آسیب
- 33 شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں
- 34 سامنے اس بت کے جب جانا پڑا
- 35 برسات
- 36 شام کی دعا
- 37 رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے
- 38 اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ
- 39 بہارو میرا جیون بھی سنوارو
- 40 مکان
- 41 جس پہ تری شمشیر نہیں ہے
- 42 جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں
- 43 یادوں کی زنجیریں
- 44 شب غم کو سحر کرنا پڑے گا
- 45 لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے
- 46 تو کبھی خود کو بے خبر تو کر
- 47 دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا
- 48 وصال کی تیسری سمت
- 49 مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
- 50 مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
- 51 سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
- 52 مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
- 53 جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے
- 54 لگتا ہے کر کے لمبا سفر آ رہا ہوں میں
- 55 میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی
- 56 میٹھی نرم سجیلی دھوپ
- 57 خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا
- 58 تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم
- 59 جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
- 60 سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
- 61 کون روک سکتا ہے
- 62 جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں
- 63 وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا
- 64 وقت وصال کی سوچ
- 65 مائے نی مائے
- 66 وہ چاردن
- 67 طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی
- 68 دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت
- 69 آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں
- 70 حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
- 71 ایک نظم اجازتوں کے لیے
- 72 سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے
- 73 کب تک
- 74 اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے
- 75 اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے
- 76 پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد
- 77 زندگی حسن بام و در تو نہیں
- 78 چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
- 79 سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
- 80 جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
- 81 اس سے ملنا تو اس طرح کہنا
- 82 رات کی مہربان فضا کی طرح
- 83 راستے راستے ہوا اداس اداس
- 84 لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
- 85 دور ہیں وہ اور کتنی دور
- 86 وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے
- 87 آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
- 88 چاند کو اور بھی نکھار ملے
- 89 درد دل میں سمو لیا جائے
- 90 رخ زیبا ادھر نہیں کرتا
- 91 رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا
- 92 غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو
- 93 ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
- 94 تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
- 95 وہ میرا رونق محفل کہاں ہے
- 96 ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
- 97 لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
- 98 جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
- 99 رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے
- 100 اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے
- 101 درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت
- 102 ابھی اے دوست ذوق شاعری ہے وجہ رسوائی
- 103 بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
- 104 تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
- 105 بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے
- 106 چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے
- 107 وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
- 108 ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
- 109 رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں
- 110 دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
- 111 چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
- 112 شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں
- 113 دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
- 114 اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
- 115 چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
- 116 ساری عمر گنوا دی ہم نے