search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
راجا اکرام قمر
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے
(13 فروری 2026)
نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے
(13 فروری 2026)
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
(12 فروری 2026)
ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
(12 فروری 2026)
عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے
(08 فروری 2026)
بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئے
(08 فروری 2026)
نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا
(04 فروری 2026)
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
(02 فروری 2026)
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
(01 فروری 2026)
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
(01 فروری 2026)
گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے
(31 جنوری 2026)
عشق تیرے وچ رنگ کے میں بن جاواں ستے رنگ
(30 جنوری 2026)
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
(29 جنوری 2026)
کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لال
(28 جنوری 2026)
بے چارگی
(27 جنوری 2026)
کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار
(27 جنوری 2026)
خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے
(26 جنوری 2026)
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
(25 جنوری 2026)
رنگ دل رنگ نظر یاد آیا
(25 جنوری 2026)
نگاہ باز گشت
(24 جنوری 2026)
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
(24 جنوری 2026)
گل چاندنی
(23 جنوری 2026)
کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی
(23 جنوری 2026)
میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
(21 جنوری 2026)
آسیب
(21 جنوری 2026)
شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں
(20 جنوری 2026)
سامنے اس بت کے جب جانا پڑا
(20 جنوری 2026)
برسات
(19 جنوری 2026)
شام کی دعا
(19 جنوری 2026)
رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے
(18 جنوری 2026)
اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ
(17 جنوری 2026)
بہارو میرا جیون بھی سنوارو
(14 جنوری 2026)
مکان
(14 جنوری 2026)
جس پہ تری شمشیر نہیں ہے
(13 جنوری 2026)
جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں
(13 جنوری 2026)
یادوں کی زنجیریں
(11 جنوری 2026)
شب غم کو سحر کرنا پڑے گا
(11 جنوری 2026)
لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے
(09 جنوری 2026)
تو کبھی خود کو بے خبر تو کر
(09 جنوری 2026)
دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا
(07 جنوری 2026)
وصال کی تیسری سمت
(07 جنوری 2026)
مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
(06 جنوری 2026)
مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
(06 جنوری 2026)
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
(05 جنوری 2026)
مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
(05 جنوری 2026)
جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے
(01 جنوری 2026)
لگتا ہے کر کے لمبا سفر آ رہا ہوں میں
(01 جنوری 2026)
میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی
(30 دسمبر 2025)
میٹھی نرم سجیلی دھوپ
(30 دسمبر 2025)
خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا
(28 دسمبر 2025)
تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم
(28 دسمبر 2025)
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
(26 دسمبر 2025)
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
(26 دسمبر 2025)
کون روک سکتا ہے
(25 دسمبر 2025)
آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں
(18 دسمبر 2025)
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
(17 دسمبر 2025)
ایک نظم اجازتوں کے لیے
(17 دسمبر 2025)
سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے
(16 دسمبر 2025)
کب تک
(15 دسمبر 2025)
اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے
(15 دسمبر 2025)
اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے
(15 دسمبر 2025)
پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد
(15 دسمبر 2025)
زندگی حسن بام و در تو نہیں
(13 دسمبر 2025)
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
(11 دسمبر 2025)
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
(11 دسمبر 2025)
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
(10 دسمبر 2025)
اس سے ملنا تو اس طرح کہنا
(10 دسمبر 2025)
رات کی مہربان فضا کی طرح
(09 دسمبر 2025)
راستے راستے ہوا اداس اداس
(09 دسمبر 2025)
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
(08 دسمبر 2025)
دور ہیں وہ اور کتنی دور
(08 دسمبر 2025)
وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے
(07 دسمبر 2025)
آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
(07 دسمبر 2025)
چاند کو اور بھی نکھار ملے
(06 دسمبر 2025)
درد دل میں سمو لیا جائے
(06 دسمبر 2025)
رخ زیبا ادھر نہیں کرتا
(05 دسمبر 2025)
رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا
(05 دسمبر 2025)
غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو
(04 دسمبر 2025)
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
(04 دسمبر 2025)
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
(03 دسمبر 2025)
وہ میرا رونق محفل کہاں ہے
(03 دسمبر 2025)
ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
(03 دسمبر 2025)
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
(03 دسمبر 2025)
جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
(30 نومبر 2025)
رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے
(29 نومبر 2025)
اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے
(27 نومبر 2025)
درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت
(27 نومبر 2025)
ابھی اے دوست ذوق شاعری ہے وجہ رسوائی
(26 نومبر 2025)
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
(25 نومبر 2025)
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
(25 نومبر 2025)
بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے
(24 نومبر 2025)
چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے
(24 نومبر 2025)
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
(23 نومبر 2025)
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
(23 نومبر 2025)
رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں
(23 نومبر 2025)
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
(22 نومبر 2025)
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
(22 نومبر 2025)
شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں
(22 نومبر 2025)
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
(21 نومبر 2025)
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
(21 نومبر 2025)
چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
(20 نومبر 2025)
ساری عمر گنوا دی ہم نے
(20 نومبر 2025)