کیا آج مرا کیا کل سائیاں
کیا آج مرا کیا کل سائیاں
اب سنگ مرے تُو چل سائیاں
اک چاہ میں تیری برسے تھے
دو نین ہوئے اب تھل سائیاں
رکھ ہاتھ مسیحائی والا
یہ ہجر بڑا بے کَل سائیاں
اک دھوپ غموں کی پھیلی ہے
یہ روپ نہ جائے جَل سائیاں
اُس پار سکوں کا ڈیرہ ہے
اِس پار فقط ہلچل سائیاں
کیوں آنکھ میں ساون رُت پھیلی
کیوں برس پڑا بادل سائیاں
آ ہاتھ پکڑ دکھ زادوں کا
سکھ چین ملے دو پل سائیاں
اک عمر اداسی میں ڈوبی
اک درد کا ہے جنگل سائیاں
اے یار کرے گا اِک تجھ بن
اب کون مصیبت حل سائیاں
زین شکیل