شہزاد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو

باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو
در چار گھڑی رونق بازار تو دیکھو
تم دُھوپ سے گھبرا کے کہاں بیٹھ گئے ہو
سایہ کہیں ڈھونڈو کوئی دیوار تو دیکھو
طوفان کا ہم پر تو اثر کچھ نہیں لیکن
راہوں میں یہ ٹوٹے ہوئے انبار تو دیکھو
مقتل سے گزرنے لگی گی راہ ہوس بھی
ہر لب پر یہ ذکر رسن و دار تو دیکھو
توقیر نفس کی کوئی آواز نہیں کیا
گردن سے یہ لیٹی ہوئی دستار تو دیکھو
ہر بات پر لے بیٹھتے ہیں اپنا فسانہ
دوست یہ ہمدرد یہ غم خوار تو دیکھو
یہ موج تبسم میں کسک درد کی باقی
یہ سلسلۂ رنگ گل رخسار تو دیکھو

باقی صدیقی