شہزاد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گمان بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زبان بھی دے
یہ کائنات کا پھیلاؤ تو بہت کم ہے
جہاں سما سکے تنہائی وہ مکان بھی دے
میں اپنے آپ سے کب تک کیا کروں باتیں
مری زباں کو کبھی کوئی ترجمان بھی دے
فلک کو چاند ستارے نوازنے والے
مجھے چراغ جلانے کو سائبان بھی دے

ندا فاضلی