فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہے
جیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہم
ہار کر سوچتے رہتے ہیں کہ ہارا کیا ہے
دیکھو اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی
تم گزر جاؤ گی چُپکے سے تمھارا کیا ہے
تہ بہ تہ دھڑکنیں تجسیم ہوئی جاتی ہیں
پے بہ پے اُس نے مرے دل سے گزارا کیا ہے
وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر
ذرۂ خاک چمک اُٹھے ستارہ کیا ہے
خواب میں ہم کو فلک پار بُلاتا ہے کوئی
جانے کیا نام ہے اُس کا وہ ہمارا کیا ہے
ناؤ کس چڑیا کو کہتے ہیں مجھے کیا معلوم
لہر کیا شے ہے ندی کیا ہے کنارہ کیا ہے
سوچنا یہ ہے کہ آخر ہمیں جانا ہے کہاں
دیکھنا یہ ہے مقدر کا اشارہ کیا ہے
دلاور علی آزر