سجاد رضا

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ھوں پیادہ میں زندگی تیرا

ھوں پیادہ میں زندگی تیرا
کھیل سارا ہے زندگی تیرا
تو نچاتی رہی اشاروں پر
ھے تماشہ یہ زندگی تیرا
اک سزا اور جو مسلسل ہے
کیا میں مجرم ہوں زندگی تیرا
یوں تو ہر سانس نے اتارا مگر
قرض اُترا نہ زندگی تیرا
جانے کس پل سفر تمام کرے
کیا بھروسہ ھے زندگی تیرا
جس کا انجام ہی جُدائی ہے
ہے سفر کیسا زندگی تیرا
بارہا میں نے پڑھا چہروں پر
نوحہ لکھا ہے زندگی تیرا
کس کو دعویٰ رضا سمجھنے کا
بھید مشکل ھے زندگی تیرا

سجاد رضا