سجاد رضا

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

روزِ حساب

کتنے مظلوم گئے دنیا سے
روز محشر کے انتظار میں ھیں
اور اس دن خُدا سے بولیں گے
بڑے ظالم تھے نام لیوا تیرے
نام پہ تیرے ظُلم کرتے تھے
نابلد تھے جو لفظِ غیرت سے
نام ِغیرت قتال کرتے تھے
دین اک کاروبار تھا ان کا
صاحب مسند قضاوت بھی
عدل کی دھجیاں اُڑاتے تھے
حکمرانوں سے داد پاتے تھے
حد تو یہ ھے کہ
مفتی و مُلّا
نفرتیں بانٹتے تھے لوگوں میں
اپنے فتووں سے مَکر وحیلہ سے
کفر و توہین میں پھنساتے
تھے
حق پرستوں کے سر کٹاتے تھے
اور اپنی حوس پرستی میں
یہ تقدس کو بھول جاتے تھے
درسگاہوں میں اور مساجد میں
اپنی ابلیسیت دکھاتے تھے
تو جنھیں حکمراں بناتا تھا
وہ بھی کب
تیرا خوف کھاتے تھے
ان کے فرعون جاگ جاتے تھے
ھم نے آواز تو اُٹھائی تھی
ھم میں طاقت نہیں تھی لڑنے کی
ھم سے چھینی گئی حیات مگر
آج روز حساب ھے یارب
آج سارے حساب ھونے ھیں
آج قاضی بھی تو گواہ بھی تو
آج خاموش سبھی قاضی ھیں
ھم تیرے فیصلوں پہ راضی ھیں

سجاد رضا