میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں
میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں یقین مانو کہ بس تعلق نبھا رہا ہوں یہ چاند تاروں کی لو کو کس نے بڑھا دیا ہے خبر یہاں پر ہے کیسے پہنچی میں آرہا ہوں مرے جنازے کو جا کےپیڑوں کے پاس رکھنا وہ چل کے آٸیں گے اتنا کہنا بلا رہا ہوں گھڑی محبت کی اک نشانی جو بند پڑی ہے بیکار اس کی میں سوٸیوں کو گھوما رہا ہوں تمہیں پرندوں سے بات کرنے کا ڈھب سکھا لوں تو خود پرندوں سے پوچھ لینا میں کیا رہا ہوں میں سونے ہیڑوں کا دکھ سمجھتا ہوں یار دانش سو کچھ دنوں میں خود پرندے بنا رہا ہوں
‹ کلام کی فہرست پر واپس