طارق

طارق

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر

تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر میرے جُنوں سے ، محبت کا حق ادا نہ ہوا تیرے غموں نے ، میرے ہر نشاط کو سمجھا میرا نشاط ، تیرے غم سے آشنا نہ ہوا کہاں کہاں نہ ، میرے پاؤں لڑکھڑائے مگر تیرا ثبات عجب تھا ، کہ حادثہ نہ ہوا تیرے دُکھوں نے پکارا ، تو میں قریب نہ تھا میرے غموں نے صَدا دی ، تو فاصلہ نہ ہوا ہزار دَشنہ و خنجر تھے ، میرے لہجے میں تیری زباں پہ کبھی ، حرفِ ناروا نہ ہوا ہزار شمعوں کا بنتا رہا ، میں پروانہ کسی کا گھر تیرے دِل میں ، میرے سِوا نہ ہوا میری سیاھئ دامن کو ، دیکھنے پر بھی تیرے سفید دوپٹوں کا ، دِل بُرا نہ ہوا

شاعر: مصطفی زیدی — پیشکش: طارق

‹ کلام کی فہرست پر واپس