نایاب

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

چھلکائیے جام

چھلکائیے جام
آئیے آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام
پھول جیسے تن پہ جلوے یہ رنگ و بو کے
آج جامِ مئے اٹھے ان ہونٹوں کو چھو کے
لچکائیے شاخِ بدن، مہکائیے زلفوں کی شام
آپ ہی کا نام لے کر پی ہے سبھی نے
آپ پر دھڑک رہے ہیں پیالوں کے سینے
یہاں اجنبی کوئی نہیں، یہ ہے آپ کی محفل تمام
کون ہر کسی کی بانہیں بانہوں میں ڈال لے
جو نظر نشہ پلائے، وہ ہی سنبھال لے
دنیا کو ہو اوروں کی دھن، ہم کو تو ہے ساقی سے کام

مجروح سلطانپوری