منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں
منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں
آنکھیں ویسے ٹھیک ہیں شاید نم ہوتی ہیں
دریا تھوڑی ہوں جو اپنا رستہ بدلوں
صحرا کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں
رونا ہو تو تنہا ہونا شرط نہیں ہے
یہ برساتیں اکثر بے موسم ہوتی ہیں
جو بھی فیصلہ کرنا ہو بس جلدی کرنا
مجھ جیسے لوگوں کی عمریں کم ہوتی ہیں
باپ کا کندھا توڑ نہ دے یہ چھوٹا تابوت
یہ چھوٹی لاشیں بھاری بھرکم ہوتی ہیں
خاموشی ترتیب میں رکھتی ہے آوازیں
ورنہ یہ آوارہ بے ہنگم ہوتی ہیں
عشق میں کیا تیاری کیا منصوبہ بندی
یہ ان چیزوں میں ہے جو یکدم ہوتی ہیں
عمیر نجمی