نایاب

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری
کہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری
اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھنا
کہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری
مگر اچھا تو یہ ہوتا کہ ہم اک ساتھ رہتے
بھری رہتی ترے کپڑوں سے الماری ہماری
ہم آسانی سے کھل جائیں مگر اک مسئلہ ہے
تمہاری سطح سے اوپر ہے تہہ داری ہماری
ہمیں جیتے چلے جانے پہ مائل کرنے والی
یہاں کوئی نہیں لیکن سخن کاری ہماری
کہانی کار نے کردار ہی ایسا دیا ہے
اداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری

جواد شیخ