یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
وہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے
جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہے
کہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے
شب انتظار آخر کبھی ہوگی مختصر بھی
یہ چراغ بجھ رہے ہیں مرے ساتھ جلتے جلتے
کیفی اعظمی