نایاب

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی
میرے انداز سے ہر بار زیادہ نکلی
کوئی روزن نہ جھروکا نہ کوئی دروازہ
میری تعمیر میں دیوار زیادہ نکلی
یہ مری موت کے اسباب میں لکھا ہو گا
خون میں عشق کی مقدار زیادہ نکلی
کتنی جلدی دیا گھر والوں کو پھل اور سایہ
مجھ سے تو پیڑ کی رفتار زیادہ نکلی
تو سمجھتا تھا مجھے تو نے ہی برتا ہے عمیرؔ
زندگی تجھ سے بھی فن کار زیادہ نکلی

عمیر نجمی