واجد علی

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنے
تو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا
جو آسمانوں میں بانٹے گا روشنی اپنی
وہ آفتاب اسی سرزمیں سے نکلے گا
وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا
مقابلہ تو مظفرؔ کروں اندھیروں سے
چراغ بن کے پسینہ جبیں سے نکلے گا

مظفر وارثی