وصی شاہ

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

دلِ مکار کو مکار پکارا جائے

دلِ مکار کو مکار پکارا جائے
کیوں نہ غدار کو غدار پکارا جائے
ہم نے مانا کہ کہاں لوٹتی ہے عمرِ رواں
دل کے بہلانے کو ایک بار پکارا جائے
بھیک میں دے دے جو مئےکے لیے جوڑے سکے
ایسے مئے کش کو تو دیندار پکارا جائے
اس سے مظلوم کی توہین ہوا کرتی ہے
کبھی قاتل کو نہ دلدار پکارا جائے
میں ہی ہر بار قبیلے کے لیے دار چڑھوں
میرا نام ہی ہر بار پکارا جائے
پھر سے اس دل پہ پڑے تیری محبت کی پھوار
آج گا کر تجھے ملہار پکارا جائے
جس کی مٹھی میں محبت کے پڑے ہوں سکے
ایسے مفلس کو تو زردار پکارا جائے
اس لیے بھی کوئی تریاق نہیں ہم نے پیا
ہم کو ہر دم تیرا بیمار پکارا جائے
حرف تنقید علاج دل بیمار بھی ہے
ہر مخالف کو نا غدار پکارا جائے
پھر تو صدیاں اسے سینے سے لگاتی ہیں وصی
جو تیرے نام سے ایک بار پکارا جائے

وصی شاہ