اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے
اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے
باغ کا باغ اسے دیکھنے آیا ہوا ہے
ہے یہ نفرت کے محبت نہیں معلوم مگر
ایک ہی شخص میرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
تو نہ مانے گی مگر میری محبت کے طفیل
تیرے چہرے پہ عجب نور سا آیا ہوا ہے
تتلیو کیسے میں سمجھاؤں تمہیں زخم ہے زخم
یہ الگ بات کہ پھولوں سا سجایا ہوا ہے
جب بھی کرتا ہے تیرے بعد کوئی پیار کی بات
مجھ کو لگتا ہے کہ یہ گیت تو گایا ہوا ہے
گھونسلہ گرنے پہ چڑیاں جو کیا کرتی ہیں
تیری یادوں نے وہی شور مچایا ہوا ہے
کوئی پوچھے تو کہا کرتی ہےوہ کون وصی
جس نے آنچل میرے شیروں سے سجایا ہوا ہے
وصی شاہ