ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
ہر کوئی ہائے جنوں ہائے جنوں کرتا تھا
حال دل اس کو سناتا تھا میں گھنٹوں گھنٹوں
سنگ دل ایسا کہ ہاں کرتا نہ ہوں کرتا تھا
سب مجھے چھوڑ گئے ہیں تو پڑھا سوچتا ہوں
ان کی خاطر میں تمناؤں کا خوں کرتا تھا
سوچتے سوچتے یہ بات گزر جاوے ہے دن
یوں نہ کرتا تھا وہ اس بات کو یوں کرتا تھا
اب اکیلا ہوں سفر میں تو خیال آتا ہے
غیر کا ذکر میرے آگے وہ کیوں کرتا تھا
ماں کی آغوش میں لیٹے ہوئے سرگودھا میں
مدحت فلسفہ کن فیکوں کرتا تھا
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا افسوں کرتا تھا
ہر کوئی ہائے جنوں ہائے جنوں کرتا تھا
وصی شاہ