آبدار خان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں
ایسی گرہ لگا کے میں ہاتھ نہ پھر چُھڑا سکوں
اے مِرے ناتواں ملال! دیکھ رہا ہوں تیرا حال
مرغِ طرب مِلے تو میں لا کے تجھے کھِلا سکوں
کِس کو خبر کہ پھر یہاں کوئی بنا ہی دے مکاں
دِل سے تری حویلی کا ملبہ اگر ہٹا سکوں
وقت ملے اگر تجھے آ کے اُڑا بھی دے مجھے
تاکہ میں راکھ ہونے کا خُود کو یقیں دِلا سکوں
دِن کی چڑھائی اک طرف، رات کی کھائی اک طرف
بیچ میں شام کی چٹان، کیا تِرے پاس آ سکوں!
آپ ہی ایک دیو ہوں، آپ ہی شاہزادہ ہوں
کاش! لگوں میں اپنے ہاتھ، کاش! تجھے بچا سکوں

سعید شارق