پیش کردہ کلام
- 01 میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں
- 02 کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے
- 03 نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
- 04 دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
- 05 بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں
- 06 تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں
- 07 ظاہر عبادت وکھری ہوندی عشق مصلے وکھرے نے۔
- 08 ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا
- 09 لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں
- 10 آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
- 11 ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
- 12 ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا
- 13 یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
- 14 وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
- 15 صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
- 16 آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
- 17 چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
- 18 قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
- 19 تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
- 20 حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
- 21 پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
- 22 مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے
- 23 خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں
- 24 حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں
- 25 میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
- 26 جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
- 27 رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے
- 28 گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
- 29 بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ
- 30 ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
- 31 جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
- 32 اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
- 33 وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
- 34 چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے
- 35 داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
- 36 در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
- 37 ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
- 38 ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں
- 39 زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
- 40 سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ
- 41 دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں
- 42 تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
- 43 دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
- 44 جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
- 45 کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں
- 46 دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
- 47 تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
- 48 زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
- 49 اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا