search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
زاہدحسین
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے
(13 فروری 2026)
نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
(11 فروری 2026)
دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
(11 فروری 2026)
بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں
(10 فروری 2026)
تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں
(31 جنوری 2026)
ظاہر عبادت وکھری ہوندی عشق مصلے وکھرے نے۔
(30 جنوری 2026)
ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا
(29 جنوری 2026)
لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں
(29 جنوری 2026)
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
(28 جنوری 2026)
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
(28 جنوری 2026)
ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا
(26 جنوری 2026)
یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
(26 جنوری 2026)
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
(25 جنوری 2026)
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
(25 جنوری 2026)
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
(25 جنوری 2026)
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
(23 جنوری 2026)
قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
(23 جنوری 2026)
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
(22 جنوری 2026)
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
(22 جنوری 2026)
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
(21 جنوری 2026)
مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے
(21 جنوری 2026)
خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں
(20 جنوری 2026)
حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں
(20 جنوری 2026)
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
(20 جنوری 2026)
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
(18 جنوری 2026)
رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے
(18 جنوری 2026)
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
(18 جنوری 2026)
بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ
(17 جنوری 2026)
ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
(17 جنوری 2026)
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
(15 جنوری 2026)
اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
(15 جنوری 2026)
وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
(14 جنوری 2026)
چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے
(14 جنوری 2026)
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
(13 جنوری 2026)
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
(13 جنوری 2026)
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
(12 جنوری 2026)
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں
(12 جنوری 2026)
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
(09 جنوری 2026)
سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ
(09 جنوری 2026)
دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں
(07 جنوری 2026)
تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
(06 جنوری 2026)
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
(06 جنوری 2026)
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
(05 جنوری 2026)
کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں
(05 جنوری 2026)
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
(26 دسمبر 2025)
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
(26 دسمبر 2025)
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
(26 دسمبر 2025)
اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
(26 دسمبر 2025)